الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَلَامَاتِ الدَّالَّةِ عَلَى نُبُوَّتِهِ والتبشير بِمَبْعَثِهِ وَصِفَتِهِ فِي التَّوْرَاةِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ صفات¤(محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سابقہ کتب میں)
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَعْرَابِيٌّ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ فِي غَنَمٍ لَهُ عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْ غَنَمِهِ (فَذَكَرَ نَحْوَ الطَّرِيقِ الْأُولَى وَفِيهِ أَنَّ الذِّئْبَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ) رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي النَّخْلَتَيْنِ بَيْنَ الْحَرَّتَيْنِ يُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ أَنْبَاءِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ فَنَعَقَ الْأَعْرَابِيُّ بِغَنَمِهِ حَتَّى أَلْجَأَهَا إِلَى بَعْضِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ضَرَبَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْنَ الْأَعْرَابِيُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ فَقَامَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدِّثِ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَيْتَ الْحَدِيثَ۔ (دوسری سند) ایک بدّو مدینہ منورہ کے کسی کونے میں اپنی بکریاں چرارہا تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا، … … ، اس بھیڑیئے نے اس بدّو سے کہا: کھجوروں کے مابین اور دو حرّوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، وہ لوگوں کو گزر جانے والیاور اگلے زمانے کی باتیں بتلاتا ہے، پس بدّو نے اپنی بکریوں کو آواز دی اور مدینہ میں کسی مقام پر ان کو چھوڑا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر دستک دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: وہ بکریوں والا بدّو کہاں ہے؟ وہ بدّو کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: جو کچھ تو نے سنا ہے اور دیکھا ہے، وہ لوگوں کو بیان کر، … … ۔