الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعَلَامَاتِ الدَّالَّةِ عَلَى نُبُوَّتِهِ والتبشير بِمَبْعَثِهِ وَصِفَتِهِ فِي التَّوْرَاةِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کردہ صفات¤(محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سابقہ کتب میں)
عَنْ أَبِي صَخْرٍ الْعُقَيْلِيِّ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ قَالَ جَلَبْتُ جَلُوبَةً إِلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَيْعَتِي قُلْتُ لَأَلْقَيَنَّ هَذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْهُ قَالَ فَتَلَقَّانِي بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَمْشُونَ فَتَبِعْتُهُمْ فِي أَفْقَائِهِمْ حَتَّى أَتَوْا عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ نَاشِرًا التَّوْرَاةَ يَقْرَؤُهَا يُعَزِّي بِهَا نَفْسَهُ عَلَى ابْنٍ لَهُ فِي الْمَوْتِ كَأَحْسَنِ الْفِتْيَانِ وَأَجْمَلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْشِدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ هَلْ تَجِدُ فِي كِتَابِكَ ذَا صِفَتِي وَمَخْرَجِي فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَكَذَا أَيْ لَا فَقَالَ ابْنُهُ إِنِّي وَالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ إِنَا لَنَجِدُ فِي كِتَابِنَا صِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَقِيمُوا الْيَهُودَ عَنْ أَخِيكُمْ ثُمَّ وَلِيَ كَفْنَهُ وَحَنَّطَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ۔ ایک بدّو سے مروی ہے ، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ِ مبارکہ میں کچھ سامانِ تجارت مدینہ منورہ میں لے کر آیا، جب میں اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: میں اس آدمی کو ضرور ملوں گا اور اس کی باتیں سنوں گا، پس جب وہ (نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) مجھے ملے تو وہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان چل رہے تھے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ وہ ایکیہودی آدمی کے پاس پہنچ گئے، وہ تورات کھول کر پڑھ رہا تھا اور اپنے نفس کو تسلی دے رہا تھا، کیونکہ اس کا انتہائی خوبصورت نوجوان بیٹا قریب المرگ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: میں تجھ کو تورات کو نازل کرنے والی ذات کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تو اپنی کتاب میں میری صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتا ہے؟ اس نے سر سے نہیں کا اشارہ کیا، لیکن اس کے نوجوان بیٹے نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا، ہم اپنی کتاب میں آپ کی صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب ان یہودیوں کواپنے بھائی کے پاس سے کھڑا کر دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کفن کاانتظام و انصرام کیا اور اس کو خوشبو لگائی اور اس نماز جنازہ ادا کی۔