حدیث کتب › الفتح الربانی › كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم
الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ زِوَاجِهِ بِالْسَيْدَةِ الْمَصُوْنَةِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا باب: پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی کا بیان
حدیث نمبر: 10478
عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِشِرْكٍ أَوْ بِجَاهِلِيَّةٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حِينَ بَنَتِ الْكَعْبَةَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا شرک یا جاہلیت کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیتا، دروازے کو زمین سے ملا دیتا اور دو دروازے بناتا، ایک مشرقی اور ایک مغربی اور حطیم کی طرف سے چھ ہاتھ اس میں اضافہ کر دیتا، کیونکہ قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … قریشیوں نے صرف مشرقی دروازہ نصب کیا تھا اور وہ بھی زمین کی سطح سے اونچا تھا، اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ ہر کوئی بیت اللہ میں داخل نہ ہو سکے، بلکہ وہ خود جس کو چاہتے داخل کرتے اور جس کو چاہتے روک لیتے۔ جب سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے حطیم کو عمارت میں شامل کر کے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کی اور دو دروازے نصب کیے، ایک مشرقی اور دوسرا مغربی، ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے۔
پھر جب حجاج بن یوسف نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تو اس نے بنو امیہ کے موجودہ خلیفہ عبد الملک بن مروان کی طرف لکھا کہ ابن زبیر نے یہ تبدیلی اپنی رائے کی روشنی میں کی تھی، اس لیے عبد الملک نے حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی عمارت کو سابق شکل میں تبدیل کر دیا جائے اور ایسے ہی ہوا۔
پھر خلیفہ مہدییا اس کے باپ خلیفہ منصور نے اپنی عہد ِ خلافت میں امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے مشورہ کیا کہ ہم کعبہ کی عمارت کو سیدناابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیرِ نو کی شکل دینا چاہتے ہیں، لیکن امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے حکیمانہ جواب دیتے ہوئے کہا: میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوںکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بادشاہ اس عمارت کو کھلونا بنا لیں، پس انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور آج تک خانہ کعبہ کا وہی ڈیزائن موجود ہے۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۴۶)
پھر جب حجاج بن یوسف نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کیا تو اس نے بنو امیہ کے موجودہ خلیفہ عبد الملک بن مروان کی طرف لکھا کہ ابن زبیر نے یہ تبدیلی اپنی رائے کی روشنی میں کی تھی، اس لیے عبد الملک نے حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی عمارت کو سابق شکل میں تبدیل کر دیا جائے اور ایسے ہی ہوا۔
پھر خلیفہ مہدییا اس کے باپ خلیفہ منصور نے اپنی عہد ِ خلافت میں امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے مشورہ کیا کہ ہم کعبہ کی عمارت کو سیدناابن زبیر رضی اللہ عنہ کی تعمیرِ نو کی شکل دینا چاہتے ہیں، لیکن امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے حکیمانہ جواب دیتے ہوئے کہا: میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوںکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بادشاہ اس عمارت کو کھلونا بنا لیں، پس انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور آج تک خانہ کعبہ کا وہی ڈیزائن موجود ہے۔
مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۴۶)