حدیث نمبر: 10477
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ مَوْلَاهُ يَعْنِي السَّائِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ يَبْنِي الْكَعْبَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ وَلِي حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّهُ بِيَدَيَّ أَعْبُدُهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَآتِي بِاللَّبَنِ الْخَائِرِ الَّذِي أَنْفِسُهُ عَلَى نَفْسِي فَأَصُبُّهُ عَلَيْهِ فَيَجِيءُ الْكَلْبُ فَيَلْحَسُهُ ثُمَّ يَشْغَرُ فَيَبُولُ فَبَنَيْنَا حَتَّى بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ وَمَا يَرَى الْحَجَرَ أَحَدٌ فَإِذَا هُوَ وَسَطَ حِجَارَتِنَا مِثْلَ رَأْسِ الرَّجُلِ يَكَادُ يَتَرَاءَى مِنْهُ وَجْهُ الرَّجُلِ فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَيْشٍ نَحْنُ نَضَعُهُ وَقَالَ آخَرُونَ نَحْنُ نَضَعُهُ فَقَالُوا اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ حَكَمًا فَقَالُوا أَوَّلُ رَجُلٍ يَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا أَتَاكُمُ الْأَمِينُ فَقَالُوا لَهُ فَوَضَعَهُ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ دَعَا بُطُونَهُمْ فَأَخَذُوا بِنَوَاحِيهِ مَعَهُ فَوَضَعَهُ هُوَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سائب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی دورِ جاہلیت میں کعبہ کو تعمیر کرنے والوں میں تھے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک پتھر تھا، میں اپنے ہاتھوں سے اس کو تراشتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا، میں اپنے نفس پر جس جمے ہوئے دودھ کا بخل کرتا تھا، وہ لا کر اس بت پر بہا دیتا تھا، پھر کتا آ کر اس کو چاٹتا اور پھر ایک ٹانگ اٹھا کر اس پر پیشاب کر دیتا۔ پس جب ہم بیت اللہ کی تعمیر کے دوران حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے اور کوئی آدمی حجرِ اسود کو نہیں دیکھ رہا تھا، جبکہ وہ پتھروں کے درمیان میںآدمی کے سر کی طرح پڑا ہوا تھا اور (اتنا چمکدار تھا کہ) اس میں آدمی کا چہرہ نظر آ جاتا تھا، قریش کے ایک بطن (چھوٹے قبیلے) نے کہا: ہم اس پتھر کو اپنی جگہ پر نصب کریں گے، دوسرے لوگوں نے کہا: ہم رکھیں گے، پھر انھوں نے کہا: تم آپس میں ایک آدمی کو بطورِ فیصل منتخب کر لو، پھر انھوں نے کہا: جو پہلا اس کھلے راستے کی طرف سے آئے گا، وہ فیصلہ کرے گا، اتنے میں وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمودار ہوئے، سب نے کہا: امین آ گیا، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تفصیل بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پتھر کو ایک کپڑے میں رکھا اور پھر ان کے قبیلوں کو بلایا، انھوں نے اس کپڑے کے کونے پکڑ کر اس کو اٹھایا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔

وضاحت:
فوائد: … بعض روایات کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر قبیلہ کے سردار کو طلب کیا اور پھر ہر سردار کو کپڑا تھمایا۔
ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر قبیلہ کپڑے کو ایک طرف سے پکڑ لے اور پھر سب مل کر اٹھا لو۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، پھرجب انھوں نے پتھر کو اس کی جگہ کے قریب پہنچا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت و دیانت اور حکمت و دانائی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10477
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15589»