حدیث نمبر: 10476
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقِلُ مَعَهُمْ حِجَارَةَ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ساتھ کعبہ کے پتھر اٹھا کر لا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تہبند باندھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! اگر تم اپنا ازار کھول کر اس کو اپنے کندھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو تو اچھا ہو گا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جونہی ازار کھول کراپنے کندھے پر رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مزاج میں نبوت سے پہلے پائی جانے والی شرّ کے خلاف فطرت تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10476
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 364، ومسلم: 340 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14332 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14384»