الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ رَضَاعِهِ وَمَرَاضِعِهِ وَحَوَاضِنِهِ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي قَالَ ((فَأَصْنَعُ بِهَا مَاذَا)) قَالَتْ تَزَوَّجْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ)) فَقَالَتْ نَعَمْ لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي)) فَقَالَتْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَوْ كَانَتْ تَحِلُّ لِي لَمَا تَزَوَّجْتُهَا قَدْ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثَوَيْبَةُ مَوْلَاةُ بَنِي هَاشِمٍ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ))۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری بہن کی رغبت رکھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟ انھوں نے کہا: آپ ان سے شادی کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ چاہتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، پہلے میں کون سی اکیلی ہوں اور اس خیر میں میرے ساتھ شریک ہونے کی سب سے زیادہ حقدار میری بہن ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے درّہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں نے اس سے شادی نہیں کرنی تھی، کیونکہ مجھے اور اس کو بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، لہٰذا اپنی بہنیں اور بیٹیاں مجھ پر پیش نہ کرو۔