حدیث نمبر: 10464
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ((أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَالْحَاشِرُ وَالْمُقَفِّي وَنَبِيُّ الْمَلَاحِمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ کے کسی راستے پر چل رہا تھا، اتفاق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی وہاں چل رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں نبی رحمت ، نبی توبہ، حاشر، مُقَفّی اور نبی ملاحم ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … مزید بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صفاتی نام ثابت ہیں، جیسے رحیم، رسول اللہ، نبی اللہ، مدثر، مزمل، خلیل۔
لیکن اللہ تعالیٰ کے ننانوے اسمائے حسنی کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ننانوے اسمائے گرامی مرتّب کر دینا بے حقیقت بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں غلوّ کرتے ہوئے بعض نام ترتیب دیئے گئے، جیسے طٰہٰ، یٰسٓ، حٰمٓ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے ایسے الفاظ ہیں کہ ہم جن کے معانی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔
قرآن و حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن اسمائے گرامی ٔ قدر کا ذکر ہے، ان ہی پر اکتفا کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10464
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي في الشمائل : 360، والبزار: 2887 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23445 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23838»