حدیث نمبر: 10463
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ أَسْمَاءً مِنْهَا مَا حَفِظْنَا فَقَالَ ((أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ)) وَقَالَ يَزِيدُ ((وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الْمَلْحَمَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے اپنے کچھ نام بیان کیے، ان میں سے بعض ہم نے یاد کر لیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں محمد، احمد، مقَفّی، حاشر اور نبی رحمت ہوں، یزید راوی نے کہا: اور میں نبی توبہ اور نبی ملحمہ ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … َاَلْمُقَفَّی: لفظی معنییہ ہے: جس کو کسی کے پیچھے چلایا گیا ہو، مراد وہ ہستی جس کو انبیاء و رسل کے آخر میں لا کر آئندہ کے لیے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ یہ نامِ مبارک اَلْعَاقِب کے ہم معنی ہے۔
نَبِیُّ الرَّحْمَۃ: وہ نبی جو رحمت سے متصف ہو کر اور رحمت کو پھیلانے کے لیے تشریف لایا۔
نَبِیُّ التَّوْبَۃِ:وہ نبی جو اس پیغام کے ساتھ آیا کہ ہر نادم کی توبہ قبول ہو گی۔
نَبِیُّ الْمَلْحَمَۃ:وہ نبی جس کو قتال کے ساتھ مبعوث کیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10463
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2355، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19850»