حدیث نمبر: 10462
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ لِي أَسْمَاءً أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يُمْحَى بِيَ الْكُفْرُ وَأَنَا الْعَاقِبُ وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے کچھ نام ہیں، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں حاشر ہوں، لوگوں کا میرے قدم پر حشر ہو گا، میں ماحی ہوں، یعنی میرے ذریعے کفر کو مٹایا جائے گا اور میں عاقب ہوں اور عاقب وہ ہوتا ہے، جس کے بعد کوئی نبی نہیں ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … مُحَمَّد: وہ شخصیت جس کی تعریف کی گئی ہو۔
اَحْمَد: اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ حمد و ثنا بیان کرنے والا۔
اَلْحَاشِر: جس کے قدم پر لوگوں کا حشر ہو گا، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد لوگ حشر میں جائیں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے بعد قیامت آئے گی، پہلے نہیں آ سکتی۔
اَلْمَاحِی: اس کا لفظی معنی مٹانے والا اور اثر زائل کرنے والا ہے، مراد وہ ہستی جس کے ذریعے زمین کے ان خطّوں سے کفر کو مٹا دیا جائے گا، جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین پہنچے گا اور بالآخر عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت سارا کفر مٹ جائے گا۔
اَلْعَاقِب: لفظی معنی سب کے اخیر میں آنے والا ہے، مراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم النبیین ہوناہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10462
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4896، ومسلم: 2354 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16854»