الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَالسَّعْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ باب: نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: ((النَّاسُ قَدْ صَلَّوْا وَقَامُوا وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا)) قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ الْآنَ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِحُمَید کہتے ہیں: سیدنا انس بن مالک ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھی پہنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک رات کو نمازِ عشا کو نصف رات تک مؤخر کر دیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھا چکے تو ہم صحابہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: (دوسری مسجدوں والے) لوگ یہ نماز پڑھ کر سو چکے ہیں، لیکن تم جب تک اس نماز کے انتظار میں رہے، نماز میں ہی رہے۔ سیدنا انس ؓ نے کہا: گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔