الفتح الربانی
كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم— اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب
بَابُ ذِكْرِ نَسَبهِ الشَّرِيفِ وَطَيْب أَصْلِهِ الْمُنِيفِ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ هَيْضَمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدٍ لَا يَرَوْنَ أَنِّي أَفْضَلُهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّنَا نَزْعَمُ أَنَّكُمْ مِنَّا قَالَ نَحْنُ بَنُو النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا قَالَ فَكَانَ الْأَشْعَثُ يَقُولُ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ نَفَى قُرَيْشًا مِنَ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ إِلَّا جَلَدْتُهُ الْحَدَّ۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وفد کے لوگوں کا خیال نہ تھا کہ میں ان میں افضل ہوں، اس لیے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ خیال ہے کہ آپ لوگ ہم میں سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بنو نضر بن کنانہ ہیں،ہم نہ اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ اپنے باپ کی نفی کرتے ہے۔ اشعث کہتے تھے: اگر میرے پاس کوئی ایسا بندہ لایا گیا جس نے قریش کی نضر بن کنانہ سے نفی کی تو میں اس کو حد لگانے کے لیے کوڑے لگاؤں گا۔
آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے، جو پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ تھا، قریش دراصل فہر بن مالک یا نضر بن کنانہ کا لقب تھا، بعد میں اس کی اولاد اسی نسبت سے مشہور ہوئی۔
اس حدیث ِمبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قبیلے کی ایک صفت بیان کی ہے۔