حدیث نمبر: 10456
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ هَيْضَمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدٍ لَا يَرَوْنَ أَنِّي أَفْضَلُهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّنَا نَزْعَمُ أَنَّكُمْ مِنَّا قَالَ نَحْنُ بَنُو النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا قَالَ فَكَانَ الْأَشْعَثُ يَقُولُ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ نَفَى قُرَيْشًا مِنَ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ إِلَّا جَلَدْتُهُ الْحَدَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وفد کے لوگوں کا خیال نہ تھا کہ میں ان میں افضل ہوں، اس لیے میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا یہ خیال ہے کہ آپ لوگ ہم میں سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم بنو نضر بن کنانہ ہیں،ہم نہ اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ اپنے باپ کی نفی کرتے ہے۔ اشعث کہتے تھے: اگر میرے پاس کوئی ایسا بندہ لایا گیا جس نے قریش کی نضر بن کنانہ سے نفی کی تو میں اس کو حد لگانے کے لیے کوڑے لگاؤں گا۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث کو سامنے رکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب پر غور کریں: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قُصَی بن کِلاب بن مُرّہ بن کعب بن لُؤیّ بن غالب بن فِہر بن مالک بن نضر بن کِنانہ بن خزیمہ بن مُدرِکہ بن الیاس بن مضر بن نِزار بن معَد بن عدنان۔ عدنان بالاتفاق حضرت اسماعل علیہ السلام کی نسل سے ہیں، لیکن اِن دونوں کے درمیان کتنی پشتیں ہیں اور ان کے نام کیا کیا ہیں، اس بارے بڑا اختلاف ہے۔
آپ قبیلۂ قریش سے تعلق رکھتے تھے، جو پورے عرب میں سب سے معزز قبیلہ تھا، قریش دراصل فہر بن مالک یا نضر بن کنانہ کا لقب تھا، بعد میں اس کی اولاد اسی نسبت سے مشہور ہوئی۔
اس حدیث ِمبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے قبیلے کی ایک صفت بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10456
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2612 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22182»