حدیث نمبر: 10454
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اصْطَفَى مِنْ وَلَدِ إِبْرَاهِيمَ إِسْمَاعِيلَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ كِنَانَةَ وَاصْطَفَى مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قُرَيْشًا وَاصْطَفَى مِنْ قُرَيْشٍ بَنِي هَاشِمٍ وَاصْطَفَانِي مِنْ بَنِي هَاشِمٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اولادِ ابراہیم سے اسماعیل کو، بنو اسماعیل سے کنانہ کو، بنو کنانہ سے قریش کو، قریش سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھ کو منتخب فرمایا۔

وضاحت:
فوائد: … شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عرب بلحاظ جنس عجمیوں سے افضل ہیں، پھر عربوں میں قریشی، قریشیوں میں بنی ہاشم اور بنو ہاشم میں سب سے زیادہ فضیلت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری انسانیت میں سب سے زیادہ فضیلت پانے والے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ہر اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برتری اور فضیلت عطا کی، اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نسب کی فضیلت کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب سيرة أول النبيين وخاتم المرسلين نبينا محمد بن عبد الله صلى الله عليه وآله وسلم / حدیث: 10454
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: اصطفي من ولد ابراهيم اسماعيل ، أخرجه مسلم: 2276 دون لفظة: اصطفي من ولد ابراهيم اسماعيل ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16987 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17112»