الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَتِهِ وَ شَمَائِلِهِ وَ نُزُولِهِ آخِرَ الزَّمَان وَحُكْمِهِ وَ مُدَّةٍ مَكْثِهِ فِي الْأَرْضِ وَحَجُهِ وَ فَنَاءِ كُلِّ مِلَّةِ غَيْرِ الْإِسْلامِ وَ وَفَاتِهِ باب: عیسی کی تخلیقی صفات، عادات، آخری زمانے میں ان کے نازل ہونے، انصاف کرنے، زمین میں ٹھہرنے کی مدت، حج کرنے، اسلام کے علاوہ ہر مذہب کے فنا ہو جانے اور ان کی وفات کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ رَجُلًا مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ فَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَنِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْأَسْوَدُ مَعَ الْإِبِلِ وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ)) وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ ((وَيُدَفِّنُونَهُ))۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے، میں دنیا و آخرت میں عیسی بن مریم علیہ السلام کا سب سے زیادہ قریبی ہوں، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے، بیشک وہ نازل ہونے والے ہیں، پس ان کو پہچان لینا، وہ معتدل قد کے آدمی ہیں، ان کا رنگ سرخی سفیدی مائل ہے، ان پر ہلکی زردی کے دو کپڑے ہوں گے، ایسے محسوس ہو گا جیسے ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو، حالانکہ نمی (پانی) لگا نہیں ہو گا، (یعنی وہ انتہائی نظیف اور چمک دار رنگ کے نظر آ رہے ہوں گے) ، پس وہ صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان کے اُس عہد میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب کو ختم کر دے گا، اللہ تعالیٰ ان کے ہی زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کرے گا، زمین پر اتنا امن و امان واقع ہو گا کہ سانپ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گائیوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چریں گے، بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہیں دیں گے، عیسی علیہ السلام زمین میں چالیس سال قیام کریںگے، پھر وہ فوت ہو جائیںگے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کر کے ان کو دفن کریں گے۔
اس روایت میں ان کے چالیس سال ٹھہرنے کا ذکر ہے، شارح ابوداود نے حافظ ابن کثیر کے حوالے یہ تطبیق پیش کی ہے کہ اس سے مراد عیسی علیہ السلام کی کل عمر ہے، اور مشہور بھییہی ہے کہ جب ان کو آسمان پر اٹھا یا گیا تو ان کی عمر تینتیس برس تھی۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۹۸۷) واللہ اعلم
جزیہ ختم کر دینے کا معنییہ ہے کہ دنیا پر ایک دین ہو گا، کوئی غیر مسلم بچے گا ہی نہیں کہ جو ذمی ہونے کی صورت میں جزیہ دے۔
ان کے زمانے میں امن اتنا عام ہو جائے گا کہ نقصان پہنچانے والے جانور بھی کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔