حدیث نمبر: 10416
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ)) قَالُوا كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ((الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں دنیا و آخرت میں عیسی بن مریم علیہ السلام کا سب سے زیادہ قریبی ہوں۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہے، پس میرے اور عیسی علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔

وضاحت:
فوائد: … علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں، جن کا باپ ایک ہو اور مائیں مختلف ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کے اصول کو باپ سے اور دین کی فروعات کو ماؤں سے تشبیہ دی،یعنی انبیاء و رسل کے ادیان کے اصول یکساں تھے، البتہ شریعت کی فروعات مختلف ہوتی تھیں۔
اگرچہ عیسی علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے مابین تقریبا چھ صدیوں کا فاصلہ ہے، لیکن ان دو ہستیوں کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آیا، اس اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عیسی علیہ السلام کے قریب تر ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10416
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8231»