الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلٍ مَرْيَمَ بِنْتِ عِمْرَانِ باب: سیدہ مریم بنت عمران علیہا السلام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 10412
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ قَالَ ((تَدْرُونَ مَا هَذِهِ)) فَقَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنَّ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار خطوط کھینچے، پھر پوچھا: کیا تم ان لکیروں کے بارے میں جانتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت والی خواتین میں سب سے افضل یہ چار ہیں: خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )، فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران۔
وضاحت:
فوائد: … موسی علیہ السلام کا فرعون کے محل میں دفاع کرنے والی سیدہ آسیہ علیہا السلام ہی تھیں، اس خاتون کی عظمت کو سلام، جس نے فرعون کے گھر میں رہ کر اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کر لیا، مندرجہ ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ فِرْعَوْنَ اَوْتَدَ لِاِمْرَاَتِہِ اَرْبَعَۃَ اَوْتَادٍ فِيْ یَدَیْھَا وَرِجْلَیْھَا، فَکَانُوْا اِذَا تَفَرَّقُوْا عَنْھَا ظَلَّلَتْھَا الْمَلَائِکَۃُ، فَقَالَتْ: {رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ
وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸)
اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔
سیدہ خدیجہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب معروف ہیں اور سیدہ مریم علیہا السلام کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔
وَعَمَلِہِ وَنَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ}، فَکَشَفَ لَھَا عَنْ بَیْتِھَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔ … فرعون نے اپنی بیوی کے دو ہاتھوں اور دو پاؤں میں چار میخیں گاڑ دیں۔ جب وہ (فرعونی) اس سے جدا ہوتے تھے تو فرشتے اس پر سایہ کر لیتے تھے، اس بیوی نے کہا: اے میرے ربّ! اپنے ہاں میرے لیے جنت میں گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی چھٹکارا نصیب فرما۔ سو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے پردہ ہٹا کر (اسے اس کا گھر دکھا دیا)۔ (مسندابو یعلی:۴/۱۵۲۱ـ ۱۵۲۲، صحیحہ: ۲۵۰۸)
اللہ کے بندوں پر آزمائشیں ضرور آتی ہیں، لیکن ان آزمائشوں پر صبر کرنے کی وجہ سے انہیںجو رحمتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے، وہ ان مصائب سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔
سیدہ خدیجہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے فضائل و مناقب معروف ہیں اور سیدہ مریم علیہا السلام کا ذکر پیچھے ہو چکا ہے۔