حدیث نمبر: 1041
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ يَنْتَظِرُ الَّتِي بَعْدَهَا وَلَا تَزَالُ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مَسْجِدِهِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ))، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضَرَمَوْتَ: وَمَا ذَلِكَ الْحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، إِنْ فَسَا أَوْ ضَرَطَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے وہ آدمی اس وقت تک نماز میں رہتا ہے، جب تک بعد والی نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اور جب تک آدمی (نماز کی ادائیگی کے بعد) اپنی جائے نماز میں رہتا ہے، فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہوئے کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما، جب تک بے وضو نہیں ہو جاتا۔ حضرموت کے ایک آدمی نے کہا: ابو ہریرہ! حَدَث (یعنی بے وضو ہو جانے) سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا، اس سے مراد پھسکی چھوڑنا یا گوز مارنا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الصلاة / حدیث: 1041
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 477، ومسلم: ص 459 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7879»