الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
باب مَا جَاءَ فِي صَوْمِهِ وَ صَلَاتِهِ باب: داود علیہ السلام کے روزے اور نماز کا بیان
حدیث نمبر: 10400
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب داود علیہ السلام کی نماز ہے، وہ رات کا نصف حصہ سوتے، پھر ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر باقی چھٹا حصہ سو جاتے تھے اور ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔