الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِ وَ قِرَاءَتِهِ وَحُسْنِ صُوْتِهِ باب: داود علیہ السلام کی فضیلت، قراء ت اور ان کی آواز کی خوبصورتی کا بیان
حدیث نمبر: 10399
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ يَقْرَأُ فَقَالَ لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَفِي لَفْظٍ لَقَدْ أُعْطِيَ أَبُو مُوسَى مَزَامِيرَ دَاوُدَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا اور فرمایا: اس کو آلِ داود کی بانسریاں عطا کر دی گئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے: ابو موسی کو داود علیہ السلام کی بانسریاں دے دی گئی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری جن کا نام عبد اللہ بن قیس رضی اللہ عنہما بھی خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے۔