الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرِ نُبُوَّةِ يُوشَعَ بَنِ نُونِ وَ قِيَامِهِ بِأَعْبَاءِ بَنِي إِسْرَئِيلَ بَعْدَ وَفَاةِ مُوسَى وَ هٰرُونَ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلامُ وَ مُعْجِزَتِهِ باب: یوشع بن نون علیہ السلام کی نبوت اور موسی علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا بنی اسرائیل کی¤ذمہ داریاں ادا کرنے اور ان کے معجزے کا بیان
حدیث نمبر: 10393
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا} [البقرة: 58] قَالَ دَخَلُوا زَحْفًا {وَقُولُوا حِطَّةٌ} قَالَ بَدَّلُوا فَقَالُوا حِنْطَةٌ فِي شَعْرَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا کہ دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔ لیکن وہ سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور ان کو حکم دیا کہ حِطَّۃ کہو، لیکن انھوں نے اس حکم کو بد ڈالا اور کہا: حِنْطَۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ (گندم بالی میں)۔
وضاحت:
فوائد: … حِطَّۃ کا معنی ہے: ہمارے گناہ معاف کر دے، یعنی بنی اسرائیل کو استغفار کرنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا۔
بنی اسرائیلی کی سرتابی و سرکشی کییہ صورتحال تھی کہ وہ لوگ احکام الٰہی کا تمسخر و استہزا کرتے تھے، دراصل جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہو جائے تو اس کا معاملہ احکام الہیہ کے ساتھ اسی طرح کا ہو جاتا ہے۔
حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کہا: بنی اسرائیل چالیس برسوں کے بعد یوشع علیہ السلام کے ساتھ میدان تیہ سے نکلے اور جمعہ کی شام کو بیت المقدس کو فتح کر لیا، ان ہی کے لیے سورج کو کچھ دیر کے لیے روکا گیا تھا، جب انھوں نے اس کو فتح کر لیا تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر نے کے لیے شہر کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی، ان کا علاقہ ان کو لوٹا دیا اور ان کو میدانِ تیہ اور گمراہی سے بچایا۔
لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری کی اور گویا اس کے حکم کے ساتھ مذاق کیا۔
بنی اسرائیلی کی سرتابی و سرکشی کییہ صورتحال تھی کہ وہ لوگ احکام الٰہی کا تمسخر و استہزا کرتے تھے، دراصل جب کوئی قوم اخلاق و کردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہو جائے تو اس کا معاملہ احکام الہیہ کے ساتھ اسی طرح کا ہو جاتا ہے۔
حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں کہا: بنی اسرائیل چالیس برسوں کے بعد یوشع علیہ السلام کے ساتھ میدان تیہ سے نکلے اور جمعہ کی شام کو بیت المقدس کو فتح کر لیا، ان ہی کے لیے سورج کو کچھ دیر کے لیے روکا گیا تھا، جب انھوں نے اس کو فتح کر لیا تو ان کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر نے کے لیے شہر کے دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح عطا کی، ان کا علاقہ ان کو لوٹا دیا اور ان کو میدانِ تیہ اور گمراہی سے بچایا۔
لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری کی اور گویا اس کے حکم کے ساتھ مذاق کیا۔