حدیث نمبر: 10390
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ عَلَى بَشَرٍ إِلَّا لِيُوشَعَ بْنِ نُونٍ لَيَالِيَ سَارَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج کو کسی بشر کے لیے نہیں روکا گیا، ما سوائے یوشع بن نون علیہ السلام کے، یہ ان دنوں کی بات ہے، جب وہ بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … سورج اللہ تعالیٰ کے نظام کے مطابق صدہا صدیوں سے اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے، اس کی آمد و رفت میں ایک لمحہ کا فرق نہیں آیا، صرف یوشع بن نون کے لیے سورج کو روک لیا گیا تھا، جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا، یقینا اس سے جہاد کی برکت و اہمیت واضح ہوتی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس کو فتح کیا، نہ کہ موسی علیہ السلام نے، سورج کو بیت المقدس کی فتح کے موقع پر روکا گیا تھا، نہ کہ اریحا کی فتح کے موقع پر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10390
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار : 1069 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8315 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8298»