الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرِ قِصَّتِهِ مَعَ مَلَكِ الْمَوْتِ وَ وَفَاتِهِ وَ مَكَان قَبْرِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ باب: موسی علیہ السلام کا ملک الموت کے ساتھ قصہ، نیز ان کی وفات اور قبر کا بیان
حدیث نمبر: 10389
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى مُوسَى فَرَأَيْتُهُ قَائِمًا يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس رات مجھے سیر کرائی گئی، اس رات کو میں موسی علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور میں نے ان کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر اپنی قبر میں نماز ادا کر رہے تھے۔ ایک روایت میں یہ زائد بات ہے: یہ قبر سرخ ٹیلے کے پاس تھی۔
وضاحت:
فوائد: … سوال یہ ہے کہ موسی علیہ السلام نے موت والے فرشتے کو تھپڑ کیوں مارا؟ اس کے دو جوابات ہیں: (۱)موسی علیہ السلام کو یہ علم نہ ہو سکا کہ وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کا قا صد تھا، جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آیا تھا، انھوں نے سمجھا کہ یہ کوئی عام آدمی ہے، جو ان کو قتل کرنا چاہتا ہے، اس لیے انھوں نے اپنا دفاع کرتے ہوئے یہ اقدام کیا۔ (۲)اللہ تعالیٰ نے فرشتے کا امتحان لینے کے لیے موسی علیہ السلام کو اجازت دی تھی کہ وہ اس کو تھپڑ ماریں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کو پرکھنے کے لیے جو چاہتے ہیں کرتے رہتے ہیں۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷)
موسی علیہ السلام نے بیت المقدس کے قرب کا سوال اس بنا پر کیا کہ وہ شرف والی جگہ تھی، انبیائے کرام وغیرہ کا مدفن ہونے کی وجہ سے افضل ہو گی، جبکہ بعض علما کا خیال ہے کہ انھوں نے بیت المقدس کا سوال نہیں کیا، کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ فتنہ و فساد میں پڑ جائیں۔ اس حدیث سے پتہ چلا کہ دفن ہونے کے لیے فضیلت و عظمت والے
مقام کا تعین کرنا چاہیے اور نیکوکار لوگوں کے قبرستان کے قریب دفن ہونا چاہیے۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷)
موسی علیہ السلام نے بیت المقدس کے قرب کا سوال اس بنا پر کیا کہ وہ شرف والی جگہ تھی، انبیائے کرام وغیرہ کا مدفن ہونے کی وجہ سے افضل ہو گی، جبکہ بعض علما کا خیال ہے کہ انھوں نے بیت المقدس کا سوال نہیں کیا، کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ فتنہ و فساد میں پڑ جائیں۔ اس حدیث سے پتہ چلا کہ دفن ہونے کے لیے فضیلت و عظمت والے
مقام کا تعین کرنا چاہیے اور نیکوکار لوگوں کے قبرستان کے قریب دفن ہونا چاہیے۔ (دیکھئے شرح نووی صحیح مسلم: ۲/ ۲۶۷)