حدیث نمبر: 10386
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَقَالَ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا وَبُرْهَانًا وَنَجَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهَا لَمْ يَكُنْ لَهُ نُورٌ وَلَا بُرْهَانٌ وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَ قَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَأُبَيِّ بْنِ خَلَفٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جس نے اس نماز کی محافظت کی تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور، دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے اس کی محافظت نہیں کی،یہ ا س کے حق میں نور ہو گی نہ دلیل اور ایسا شخص قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … فرعون بادشاہت کی وجہ سے، قارون مال و دولت کی وجہ سے، ہامان وزارت کی وجہ سے اور ابی بن خلف تجارت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے دور رہے۔ کون سی وجہ ہے کہ بے نماز کو نماز کی ادائیگی کا وقت نہیں ملتا؟ غور کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10386
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن، أخرجه الدارمي: 2/ 301، وابن حبان: 1467 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6576»