الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي جُبْن بَنِي إِسْرَئِيلَ وَ خَوْفِهِمْ مِنْ قِتَالِ الْجَبَّارِينَ باب: بنو اسرائیل کی بزدلی اور جبارقوم کے ساتھ لڑنے سے ان کے خوف کا بیان
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَكَتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا نَكُونَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} [المائدة: 24] وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف روانہ ہونے لگے تو باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورہ طلب کیا، اس بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رائے دی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، اتنے میں ایک انصاری کھڑا ہوا اور اس نے کہا: انصاریو! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے مخاطب ہیں، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم اس طرح نہیں ہوں گے، جیسا کہ بنو اسرائیل نے حضرت موسی علیہ السلام سے کہا تھا: تو جا اور تیرا ربّ جائے اور تم دونوں جا کر لڑو، ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ہے، اے اللہ کے رسول! اگر آپ اونٹوں کے جگروں پر مارتے ہوئے سفر کرتے جائیں،یہاں تک کہ برک الغماد تک پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔
برک الغماد ایک مقام کانام ہے، ایک قول کے مطابق یہ مکہ مکرمہ سے آگے پانچ دنوں کی مسافت پر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مقام مدینہ منورہ سے تقریباً پندرہ دنوں کی مسافت پر پڑتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہجر کے اُس پار یا حبشہ میں ایک شہر کا نام ہے۔