الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرِ هَلَاكِ فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ وَدَسِ جِبْرِيلَ لا الطَّيِّنَ فِي فِيهِ باب: فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
حدیث نمبر: 10378
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ وَعَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَفَعَهُ أَحَدُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يَدُسُّ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ الطِّينَ مَخَافَةَ أَنْ يَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جبریل علیہ السلام فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دے۔
وضاحت:
فوائد: … برے لوگوں کا انجام بھی برا ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا اصل قانون یہ ہے کہ جو آدمی جس انداز میں زندگی گزارتا ہے، اسی انداز میں اس کو موت آتی ہے۔ سجدوں میں ان لوگوں کی روحیں پرواز کر گئیں جو اپنے زندگی میں کثرت سے سجدے کرنے کے عادی تھے اور برائی کی حالت میں ان لوگوں کو موت کا پیغام قبول کرنا پڑا جو برائیوں کے دلدادہ تھے۔ فرعون کی زندگی بغاوت اور سرکشی کی سنگین مثالوں سے بھری ہوئی تھی،اس لیے اسی کے مطابق ہی اس کاخاتمہ ہونا تھا۔
حدیث نمبر (۸۶۳۳)میں اس کی مزید تفصیل بیان ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر (۸۶۳۳)میں اس کی مزید تفصیل بیان ہو چکی ہے۔