الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرِ هَلَاكِ فِرْعَوْنَ وَجُنُودِهِ وَدَسِ جِبْرِيلَ لا الطَّيِّنَ فِي فِيهِ باب: فرعون اور اس کے لشکروں کی ہلاکت اور جبریل علیہ السلام کا اس کے منہ میں مٹی ٹھونسنے کا بیان
حدیث نمبر: 10377
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَمَّا قَالَ فِرْعَوْنُ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ قَالَ قَالَ لِي جِبْرِيلُ يَا مُحَمَّدُ لَوْ رَأَيْتَنِي وَقَدْ أَخَذْتُ حَالًا مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَدَسَسْتُهُ فِي فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ تَنَالَهُ الرَّحْمَةُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب فرعون نے غرق ہوتے وقت کہا: میں اس بات پر ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، مگر وہی کہ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے، جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد! کاش آپ مجھے اس وقت دیکھتے جب میں نے سمندر کی کالی مٹی لے کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ کی رحمت اس کو پا لے۔