حدیث نمبر: 10370
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِوَادِي الْأَزْرَقِ يَعْنِي حِينَ حَجَّ فَقَالَ ((أَيُّ وَادٍ هَذَا)) قَالُوا هَذَا وَادِي الْأَزْرَقِ فَقَالَ ((كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ هَابِطٌ مِنَ الثَّنِيَّةِ وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِالتَّلْبِيَةِ)) حَتَّى أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَاءَ فَقَالَ ((أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ)) قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَاءَ قَالَ ((كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ)) قَالَ هُشَيْمٌ يَعْنِي لِيفًا ((وَهُوَ يُلَبِّي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفرِ حج کے دوران وادیٔ ازرق سے گزرے تو پوچھا: یہ وادی کون سی ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ وادیٔ ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا کہ میں موسی علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، وہ گھاٹی سے اتر رہے ہیں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلتے گئے، یہاں تک کہ ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … موسی علیہ السلام اور یونس علیہ السلام کو مذکورہ ہیئت میں کیسے بیان کیا گیا؟ دو صورتیں ممکن ہیں: (۱)جس طرح وہ دنیوی زندگی میں عبادت کرتے، حج کرتے اور تلبیہ کہتے تھے، تمثیلی طور پر ان کو اسی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیایا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے خواب میں اسی طرح دیکھا تھا۔ واللہ اعلم
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10370
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 166 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1854»