الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْل نَبِيِّ اللَّهِ مُوسَى وَ شَيْءٍ مِنْ فَضْلٍ نَبِيِّنَا عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسّلامُ باب: اللہ کے نبی موسی علیہ السلام کی فضیلت اور بیچ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت کا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ((عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَيْنِ وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقُلْتُ هَذِهِ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَوْمُهُ وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ثُمَّ قِيلَ انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ)) فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ((مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ)) فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ فَقَالَ ((هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ)) فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ((أَنْتَ مِنْهُمْ)) ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ))۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، پس میں نے کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت، کسی کے ساتھ ایک فرد، کسی کے ساتھ دو افراد اور کسی کے ساتھ کوئی آدمی نہیں دیکھا، اچانک مجھے ایک بڑا لشکر دکھایا گیا، میں نے کہا: یہمیری امت ہے؟ جواب دیا گیا: یہ موسی علیہ السلام اور ان کی قوم ہے، اب آپ افق کی طرف دیکھیں، اُدھر ایک بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھ سے کہا گیا: اب آپ اس طرف دیکھیں، اُدھر بھی بڑا لشکر موجود تھا، پھر مجھے کہا گیا: یہ آپ کی امت ہے اور اس کے ساتھ ستر ہزار افراد ایسے ہیں، جو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ نے آپس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: ممکن ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے، کسی نے کہا: ایسے لگتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انھوں نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا، دوسرے صحابہ نے مزید آراء کا ذکر بھی کیا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم کس چیز کے بارے میں غور و خوض کر رہے تھے؟ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی باتوں کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والے لوگ وہ ہیں جو نہ داغ لگواتے ہیں، نہ دم کرواتے ہیں، نہ برا شگون لیتے ہیں اور وہ صرف اپنے ربّ پر توکل کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اشعری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان میں سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں سے ہے۔ پھر ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بھی ان میں سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
لیکن توکل کی انتہائی شکل یہ ہے کہ اسباب بھی استعمال نہ کیے جائیں اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیئے جائے، بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونے والوں کا توکل اسی قسم کا ہو گا، زخم اور بیماری کے بارے میں ان کا نظریہیہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰیہ بیماریاں لگائی ہیں اور وہی شفا دے گا، وہ بیچ میں دوا کا سبب استعمال نہیں کریں گے، توکل کییہ قسم مشکل ہے۔