حدیث نمبر: 10367
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ قِسْمًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّ هَذِهِ لَقِسْمَةٌ مَا أُرِيدَ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقُلْتُ يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَمَا لَأُخْبِرَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا قُلْتَ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ ثُمَّ قَالَ ((رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن مال تقسیم کیا، ایک انصاری نے کہا: اس تقسیم سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی نہیں ہے، میںنے کہا: اے اللہ کے دشمن! میں ضرور ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کی خبر دوں گا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بات بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، ان کو اس سے زیادہ تکلیف دی گئی تھی، لیکن انھوں نے پھر بھی صبر کیا۔

وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰی فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْھًا۔} … اے لوگو جوایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے موسیٰ کو تکلیف پہنچائی تو اللہ نے اسے اس سے پاک ثابت کر دیا جو انھوں نے کہا تھا اور وہ اللہ کے ہاں بہت مرتبے والا تھا۔
(سورۂ احزاب: ۶۹)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اپنی قوم کی اذیتوں پر بڑا صبر کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10367
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4335، 6059، ومسلم: 1062 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3608»