الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي دَعْوَةِ ذِي النُّوْن يَعْنِى يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحَجه باب: مچھلی والے یعنی یونس علیہ السلام کی دعا اور ان کے حج کا ذکر
حدیث نمبر: 10364
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِثَنِيَّةِ هَرْشَاءَ حِينَ حَجَّ قَالَ ((أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ)) قَالُوا ثَنِيَّةُ هَرْشَاءَ قَالَ ((كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ)) قَالَ يَعْنِي لِيفًا ((وَهُوَ يُلَبِّي))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفرِ حج کے دوران ہرشاء گھاٹی کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سی گھاٹی ہے۔ لوگوں نے کہا: یہ ہرشاء کی گھاٹی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گویا میںیونس بن متی کو دیکھ رہا ہوں، وہ سرخ اور پر گوشت اونٹنی پر سوار ہیں، انھوں نے اون کا جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی لگام کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ تلبیہ کہہ رہے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یونس علیہ السلام کو مذکورہ ہیئت میں کیسے بیان کیا گیا؟ دو صورتیں ممکن ہیں: (۱)جس طرح وہ دنیوی زندگی میں عبادت کرتے، حج کرتے اور تلبیہ کہتے تھے، تمثیلی طور پر ان کو اسی شکل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیایا (۲) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنے خواب میں اسی طرح دیکھا تھا۔ واللہ اعلم