الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرِ نَبِيُّ اللَّهِ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ باب: اللہ کے نبی یونس علیہ السلام کا ذکر
حدیث نمبر: 10361
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((مَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى)) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ مِثْلَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ کہے: میںیونس بن متی سے بہتر ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳) اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کو بعض پر زیادہ فضیلت عطا کی گئی۔
ان احادیث ِ مبارکہ کا مقصود یہ ہے کہ کوئی نبی اور کوئی شخص از راہِ افتخار یا تنقیصیہ نہ کہے کہ وہ یونس علیہ السلام سے بہتر اور افضل ہے، اگر یونس علیہ السلام سے اعلی نبی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور دینی فائدے کے لیے اپنی فضیلت کی بات بیان کرے تو ایسا کرنے میںکوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انا سید ولد آدم ولا فخر۔)) … میں اولادِ آدم کا سردارہوں، لیکن اس پر فخر نہیں ہے۔
ان احادیث ِ مبارکہ کا مقصود یہ ہے کہ کوئی نبی اور کوئی شخص از راہِ افتخار یا تنقیصیہ نہ کہے کہ وہ یونس علیہ السلام سے بہتر اور افضل ہے، اگر یونس علیہ السلام سے اعلی نبی اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر کرتے ہوئے یا کسی اور دینی فائدے کے لیے اپنی فضیلت کی بات بیان کرے تو ایسا کرنے میںکوئی حرج نہیں ہو گا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((انا سید ولد آدم ولا فخر۔)) … میں اولادِ آدم کا سردارہوں، لیکن اس پر فخر نہیں ہے۔