الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابٌ فِي فَضْلِ انْتِظَارِ الصَّلَاةِ وَالسَّعْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ باب: نماز کے انتظار اور مسجدوں کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ) فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَثُورَ النَّاسُ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ فَجَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ رَافِعًا إِصْبَعَهُ هَٰكَذَا وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ إِلَى السَّمَاءِ وَهُوَ يَقُولُ: ((أَبْشِرُوا، (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) يَقُولُ: مَلَائِكَتِي! انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي أَدَّوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى))۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: قبل اس کے کہ لوگ نمازِ عشا کے لیے جلدی جلدی جمع ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سانس پھولا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلی کو اس طرح اٹھایا ہوا تھا، پھر انھوں نے انتیس کی گرہ لگا کر کیفیت کو واضح کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے انگشت ِ شہادت کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: خوش ہو جاؤ، … سابق حدیث کی طرح بات ذکر کی … اللہ تعالیٰ کہتا ہے: میرے فرشتو! تم میرے بندوں کی طرف دیکھو، ایک فریضہ ادا کر چکے ہیں اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔