حدیث نمبر: 10358
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا أَيُّوبُ يَغْتَسِلُ عُرْيَانًا خَرَّ عَلَيْهِ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ أَيُّوبُ يَحْثِي فِي ثَوْبِهِ فَنَادَاهُ رَبُّهُ يَا أَيُّوبُ أَلَمْ أَكُنْ أُغْنِيكَ عَمَّا تَرَى قَالَ بَلَى يَا رَبِّ وَلَكِنْ لَا غِنًى بِي عَنْ بَرَكَتِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایوب ننگے ہو کر غسل کر رہے تھے کہ سونے کی ٹڈیاں ان پر گر پڑیں، انھوں نے ان کو اپنے کپڑے میں جمع کرنا شروع کر دیا، ربّ تعالیٰ نے آواز دی: اے ایوب! کیا میں نے تجھے اس چیز سے غنی نہیں کر دیا، جو تو دیکھ رہا ہے؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، اے میرے ربّ! لیکن تیری برکتوں سے مجھے کوئی غِنٰی نہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ایوب علیہ السلام نے اس سونے کو اللہ تعالیٰ کی برکت سمجھ کر اکٹھا کرنا شروع کر دیا، نہ کہ مال سمجھ کر۔
معلوم ہوا کہ جب آدمی اکیلا ہو، اس وقت ننگا ہو کر نہا سکتا ہے، کیونکہ نہ اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو ڈانٹا اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد مزید کوئی وضاحت کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10358
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8144»