الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرِ مُهَا جَرَةِ إِبْرَاهِيمَ بِابْنِهِ إِسْمَاعِيلَ وَ أُمِّهِ هَاجَرَ إِلَى جِبَالِ فَارَانَ وَ هِيَ أَرْضُ مَكَّةَ وَ سَبَبُ وجُودِ زَمْزَمَ وَبَنَائِهِ الْبَيْتَ الْعَتِيقِ باب: ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام اور ان کی ماں سیدہ ہاجر رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ مکہ مکرمہ کے¤علاقے کے فاران کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کرنا اور اس کے سبب سے زمزم کا وجود میں آنا¤اور بیت ِ عتیق کا تعمیر ہونا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ جَاءَ بِإِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَهَاجَرَ فَوَضَعَهَا بِمَكَّةَ فِي مَوْضِعِ زَمْزَمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ جَاءَتْ مِنَ الْمَرْوَةِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ وَقَدْ نَبَعَتِ الْعَيْنُ فَجَعَلَتْ تَفْحَصُ الْعَيْنَ بِيَدِهَا هَكَذَا حَتَّى اجْتَمَعَ الْمَاءُ مِنْ شَقَّةٍ ثُمَّ تَأْخُذُ بِقَدَحِهَا فِي سِقَائِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهَا لَكَانَتْ عَيْنًا سَائِحَةً تَجْرِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ السلام اور ہاجر رحمۃ اللہ علیہ کو لے کر آئے اور ان کو مکہ میں زمزم کے مقام پر ٹھہرایا، … … ، پھر جب وہ ہاجرہ مروہ سے اسماعیل کے پاس گئیں، تو چشمہ ابل رہا تھا، وہ اپنے ہاتھ سے اس طرح کر کے چشمہ کی جگہ پر زمین کھودنے لگ گئیں،یہاں تک کہ اس گڑھے میںپانی جمع ہو گیا اور وہ پیالے کی مدد سے اپنے مشکیزے میں ڈالنے لگ گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ اس کو چھوڑ دیتیں تو وہ قیامت تک بہنے والا چشمہ ہوتا۔