حدیث نمبر: 10335
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى أَهْلِ الْحِجْرِ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى فِي النَّاسِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ وَهُوَ يَقُولُ مَا تَدْخُلُونَ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَعْجَبُ مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا أُنْذِرُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ رَجُلٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ وَمَا كَانَ هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا وَسَيَأْتِي قَوْمٌ لَا يَدْفَعُونَ عَنْ أَنْفُسِهِمْ بِشَيْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران لوگوں نے (ثمود کی منازل) حِجر کی طرف جلدی کی اور وہ ان میں داخل ہونے لگ گئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں میں یہ اعلان کیا: اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، وہ کہتے ہیں: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ کو روکا ہوا تھا اور فرما رہے تھے: تم ایسی قوم پر کیوں داخل ہوتے ہو، جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ہے؟ ایک بندے نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں ان سے تعجب ہوتا ہے، اس لیے ان کے پاس جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نے تم کو اس سے زیادہ تعجب والے معاملہ سے نہیں ڈرایا؟ تم میں ہی ایک آدمی ہے، وہ تم کو ان امور کی بھی خبر دیتا ہے، جو تم سے پہلے گزر گئے ہیں اور ان امور کی بھی، جو تم سے بعد میں ہونے والے ہیں، پس تم سیدھے ہو جاؤ اور راہِ صواب پر چلتے رہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے عذاب کی پرواہ نہیں کریں گے اور عنقریب ایسے لوگ آئیں گے، جو کسی چیز کو اپنے نفسوں سے دفع نہیں کریں گے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10335
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محمد بن ابي كبشة لين الحديث اذا انفرد، ولم يُتابع علي ھذا الحديث، واسماعيل بن اوسط مختلف فيه، أخرجه ابن ابي شيبة: 14/ 546،و الطبراني في الكبير : 22/852 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18192»