الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
باب مُرُورِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِوَادِي الْحِجْرِ مِنْ أَرْضِ ثَمُودَ عَامَ تَبُوكَ باب: غزوۂ تبوک والے سال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حجر وادی سے گزرنا، جس کا تعلق ثمود کی زمین سے ہے
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَدْخُلُوا أَمَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ وَتَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب حجر مقام سے گزرے تو فرمایا: ظلم کرنے والے لوگوں کے علاقے میں داخل نہ ہو، مگر اس حالت میں کہ تم رو رہے ہو، تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو بھی اس عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر اوڑھ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم رونے کی حالت میں نہ ہو تو ان پر داخل نہ ہوا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اسی عذاب میں مبتلا ہو جاؤ۔