حدیث نمبر: 10333
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوكَ نَزَلَ بِهِمُ الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ فَاسْتَقَى النَّاسُ مِنَ الْآبَارِ الَّتِي كَانَ يَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ بِاللَّحْمِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَهْرَاقُوا الْقُدُورَ وَعَلَقُوا الْعَجِينَ الْإِبِلَ ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا قَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تبوک والے سال حجرمقام پر صحابہ سمیت اترے، یہ مقام ثمود کے گھروں کے پاس تھا، لوگوں نے ان کنووں سے پانی لیا، جن سے ثمودی لوگ پانی پیتے تھے، پس انھوں نے اس پانی سے آٹا گوندھا اور ہنڈیوں میں گوشت پکانا شروع کر دیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا، پس انھوں نے ہنڈیاں انڈیل دیں اور آٹا اونٹوں کو کھلا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا،یہاں تک کہ اس کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا، جس سے اونٹنی پانی پیتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو عذاب دیئے جانے والی قوم کے علاقے میں داخل ہونے سے منع کیا اور فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو اس عذاب میں مبتلا کر دیا جائے، جس میں ان لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا، پس ان پر داخل نہ ہوا کرو۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10333
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3379، ومسلم: 981 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5984»