حدیث نمبر: 10332
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي عُسْفَانَ حِينَ حَجَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَيُّ وَادٍ هَذَا قَالَ وَادِي عُسْفَانَ قَالَ لَقَدْ مَرَّ بِهِ هُودٌ وَصَالِحٌ عَلَى بَكَرَاتٍ حُمْرٍ خُطُمُهَا اللِّيفُ أُزُرُهُمُ الْعَبَاءُ وَأَرْدِيَتُهُمُ النِّمَارُ يُلَبُّونَ يَحُجُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفرِ حج میں وادیٔ عسفان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے ابو بکر! یہ وادی کون سی ہے؟ انھوں نے کہا: وادیٔ عسفان ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہود علیہ السلام اور صالح علیہ السلام اس وادی کے پاس سے گزرے، وہ سرخ اونٹوں پر سوار تھے، ان کی لگامیں کھجور کے پتوں کی تھیں،ان کے ازار اوڑھنے والی چادر کے تھے، ان کی چادریں دھاری دار تھیں اور وہ اس پرانے گھر کا حج کرنے کے لیے تلبیہ پکارتے ہوئے جا رہے تھے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10332
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زمعة، وسلمةُ بن وھرام مختلف فيه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2067»