حدیث نمبر: 10329
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَسْأَلُوا الْآيَاتِ وَقَدْ سَأَلَهَا قَوْمُ صَالِحٍ فَكَانَتْ تَرِدُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ وَتَصْدُرُ مِنْ هَذَا الْفَجِّ فَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَعَقَرُوهَا فَكَانَتْ تَشْرَبُ مَاءَهُمْ يَوْمًا وَيَشْرَبُونَ لَبَنَهَا يَوْمًا فَعَقَرُوهَا فَأَخَذَتْهُمْ صَيْحَةٌ أَهْمَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ تَحْتِ أَدِيمِ السَّمَاءِ مِنْهُمْ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا كَانَ فِي حَرَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قِيلَ مَنْ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَبُو رِغَالٍ فَلَمَّا خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ أَصَابَهُ مَا أَصَابَ قَوْمَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (غزوۂ تبوک کے سفر کے دوران قومِ ثمود کے شہر) حجر کے پاس سے گزرے تو فرمایا: معجزات کی طرح کی نشانیوں کا مطالبہ نہ کیا کرو، صالح علیہ السلام کی قوم نے ان کے بارے میں سوال کیا تھا، (پس اونٹنی کی صورت میں ان کا یہ مطالبہ پورا کیا گیا)، وہ ایک راستے سے آتی تھی اور دوسرے راستے سے نکل جاتی تھی، لیکن انھوں نے سرکشی کی اور اس کی کونچیں کاٹ دیں، وہ ایک دن میں ان کا پانی پی جاتی تھی اور وہ ایک دن میں اس کا دودھ پیتے تھے، لیکن انھوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، اس وجہ سے ایک چیخ ان پر چھا گئی اور اللہ تعالیٰ نے آسمانی کی نچلی سطح کے نیچے والے ان سب کو ہلاک کر دیا، صرف ایک آدمی بچا، وہ اللہ تعالیٰ کے حرم میں تھا۔ کسی نے کہا: وہ آدمی کون تھا؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ابو رغال تھا، جب حرم سے نکلا تو وہ اسی مصیبت میں مبتلاہو گیا، جس میں اس کی قوم مبتلا ہوئی تھی۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام / حدیث: 10329
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث قوي، أخرجه البزار: 1844، والحاكم: 2/ 320 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14207»