الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ نُوحٍ وَقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطَا» باب: اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
حدیث نمبر: 10324
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ الشَّفَاعَةِ أَيْضًا قَالَ فَيَقُولُ يَعْنِي نُوحًا إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ إِنِّي دَعَوْتُ بِدَعْوَةٍ أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما شفاعت والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس نوح علیہ السلام کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں ہوں، میں نے ایک دعا کر لی، جس کی وجہ سے اہل زمین غرق ہو گئے تھے، آج تو میرے نفس نے مجھے بے چین کر رکھا ہے۔