الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ نَبِيِّ اللَّهِ نُوحٍ وَقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطَا» باب: اللہ کے نبی نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {وَکَذٰلِکَ جَعَلْـنَا کُمْ اُمَّـۃً وَسَطًا}کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُدْعَى نُوحٌ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ بَلَّغْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُدْعَى قَوْمُهُ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ بَلَّغَكُمْ فَيَقُولُونَ مَا أَتَانَا مِنْ نَذِيرٍ أَوْ مَا أَتَانَا مِنْ أَحَدٍ قَالَ فَيُقَالُ لِنُوحٍ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأُمَّتُهُ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا} [سورة البقرة: 143] قَالَ الْوَسَطُ الْعَدْلُ قَالَ فَيُدْعَوْنَ فَيَشْهَدُونَ لَهُ بِالْبَلَاغِ قَالَ ثُمَّ أَشْهَدُ عَلَيْكُمْ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نوح علیہ السلام کو قیامت والے دن بلا کر ان سے کہا جائے گا: کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: جی ہاں، پھر ان کی قوم کو بلا کر ان سے پوچھا جائے گا: کیا نوح علیہ السلام نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا نہیں آیا،یا ہمارے پاس کوئی بھی ایسا آدمی نہیں آیا، پس نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا: کون تمہارے حق میں گواہی دے گا؟ وہ کہیں گے: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: اور اسی طرح ہم نے تم کو امت ِ وسط بنایا ہے۔ وسط کا معنی انصاف کرنے والے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو بلایا جائے گا، سو وہ نوح علیہ السلام کے حق میں پیغام پہنچا دینے کی شہادت دیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر میں تم پر گواہی دوں گا۔
یعنی تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہی دو گے، کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں،یہاں پر وَسَطًا کا معنی بہتر اور عمدہ ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط ِ عرب تھے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات پر یقین کر کے یہ شہادت دے گی کہ واقعی نوح علیہ السلام نے اپنی قوم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا، ایمان و ایقان ہو تو ایسا۔