الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ إِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا» باب: اللہ کے نبی ادریس علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے فرمان {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَى السَّمَاءِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَمَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ قَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ الْبَابُ فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ فَرَحَّبَ بِي وَدَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا} [سورة مريم: 57]۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ہم کو چوتھے آسمان کی طرف چڑھایا گیا، جب جبریل علیہ السلام نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، تو ان سے پوچھا گیا: تم کون ہو؟ انھوں نے کہا: میں جبریل ہوں، پھر پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس کہا گیا: کیا ان کی طرف پیغام بھیجا گیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ان کو بلایا گیا ہے، سو دروازہ کھول دیا گیا، پس اچانک میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے حق میں خیر و بھلائی کی دعا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا} اور ہم نے اس کو بلند و بالا مقام تک بلند کر دیا۔