الفتح الربانی
بيان قصص أنبياء الله عليهم السلام— انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي عَدَدِ الْأَنْبِيَاءِ وَالرُّسُلِ وَأَمُورٍ تتعلق بهم باب: انبیاء و رسل کی تعداد اور ان سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان¤(انبیائے کرام کے انساب کا بیان)
حدیث نمبر: 10318
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا تُخَيِّرُوا بَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کو ایک دوسرے پر فضیلت مت دو۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا: {تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ} … یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۵۳)
اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کی زیادہ فضیلت ہے۔
تو اس حدیث ِ مبارکہ میں جس فضیلت و برتری سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں انبیاء و رسل کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا ممنوع ہے، جس سے کسی کی تنقیص اور سوئے ادب لازم آئے۔
اس آیت کا مطلب ہوا کہ بعض انبیاء ورسل کی زیادہ فضیلت ہے۔
تو اس حدیث ِ مبارکہ میں جس فضیلت و برتری سے منع کیا گیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں انبیاء و رسل کو ایک دوسرے پر فضیلت دینا ممنوع ہے، جس سے کسی کی تنقیص اور سوئے ادب لازم آئے۔