الفتح الربانی
كتاب الصلاة— نماز کی کتاب
بَابٌ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلَاةِ مُطْلَقًا باب: علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
حدیث نمبر: 1031
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى صِهْرٍ لَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ! ائْتِينِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ فَرَآنَا أَنْكَرْنَا ذَٰلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((قُمْ يَا بِلَالُ! فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کے ساتھ اپنے انصاری سسرال کے پاس گیا، وہاں نماز کا وقت ہو گیا، میرے باپ نے کہا: او بچی! وضو کا پانی لاؤ، تاکہ میں نماز پڑھ کر راحت حاصل کروں، لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ہم ان راحت والے الفاظ کا انکار کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: بلال! اٹھو اور نماز کے ساتھ مجھے راحت پہنچاؤ۔