حدیث نمبر: 10285
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ فَدَعَتُّهُ وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ قَالَ فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ {رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} [ص: 35] قَالَ فَرَدَّهُ خَاسِئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ایک سرکش جن گزشتہ رات میری نماز کو کاٹنے کے لیے اچانک میرے سامنے آیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے قدرت عطا کی اور میں نے اس کودھکا دیا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے ستون کے ساتھ باندھ دوں، تاکہ جب صبح ہو تو تم سارے افراد اس کو دیکھ سکو، لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی یہ دعا یاد آگئی: اے میرے رب! مجھے ایسی بادشاہت عطا کر کہ میرے بعد وہ کسی کے لیے لائق نہ ہو۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کولوٹا دیا، اس حال میں کہ وہ ناکام تھا۔

وضاحت:
فوائد: … ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۲۸۳)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10285
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 461، 3423، ومسلم: 541 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7969 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7956»