حدیث نمبر: 10284
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثِ الْإِسْرَاءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا نَزَلْتُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا نَظَرْتُ أَسْفَلَ مِنِّي فَإِذَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذِهِ الشَّيَاطِينُ تَحُومُ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَوُا الْعَجَائِبَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسراء والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میں آسمان دنیا کی طرف اترا تو دیکھا کہ میری نچلی طرف غبار، دھواں اور آوازیں تھیں، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ شیطان ہیں، جو بنو آدم کی آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں، تاکہ وہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہیوں میں غور و فکر نہ کر سکیں، اگر یہ نہ ہوتے تو وہ عجیب عجیب چیزیں دیکھتے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10284
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد، وجھالة ابي الصلت، أخرجه ابن ماجه: 2273 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8625»