حدیث نمبر: 10283
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى لَأَجِدُ بَرْدَ لِسَانِهِ فِي يَدَيَّ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوْجَعْتَنِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان میرے پاس سے گزرا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا دبایا،یہاں تک کہ مجھے اپنے ہاتھ پر اس کی زبان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اس نے مجھے کہا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، آپ نے مجھے تکلیف دی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … لیکن اس مضمون کی درج ذیل روایت پر غور کریں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَامَ فَصَلّٰی صَلَاۃَ الصُّبْحِ وَھُوَ خَلْفَہُ، فَقَرَأ، فَالْتَبَسَتْ عَلَیْہِ الْقِرَائَ ۃُ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((لَوْ رَأیْتُمُوْنِیْ وَإبْلِیْسَ فَأھْوَیْتُ بِیَدِیْ، فَمَازِلْتُ أَخْنُقُہُ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ لُعَابِہِ بَیْنَ إصْبَعَیَّ ھَاتَیْنِ: الإبْھَامَ وَالَّتِیْ تَلِیْھَا، وَلَوْلَا دَعْوَۃُ أخِی سُلَیْمَانَ، لأَصْبَحَ مَرْبُوْطًا بِسَارِیَۃٍ مِنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ یَتَلَاعَبُ بِہِ صِبْیَانُ الْمَدِیْنَۃِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ أنْ لَایَحُوْلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْقِبْلَۃِ أحَدٌ فَلْیَفْعَلْ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نماز فجر ادا کی اوروہ (ابو سعید) آپ کے پیچھے تھے، آپ نے قرأت فرمائی توآپ پرقرأت خلط ملط ہونے لگی۔جب آپ نمازسے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: کاش کہ تم مجھے اورابلیس کودیکھتے، میں نے اپناہاتھ بڑھایا اور اُس کا گلا گھونٹتا رہا، حتی کہ مجھے انگوٹھے اور اس کے ساتھ والی انگلی کے درمیان اس کے لعاب کی
ٹھنڈک محسوس ہوئی۔ اگر میرے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ اس حال میں صبح کرتا کہ مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوتا اور مدینے کے بچے اُس کے ساتھ کھیل رہے ہوتے۔ تم میں سے جس میں یہ استطاعت ہو کہ (دورانِ نماز) اس کے اور اس کے قبلہ کے مابین کوئی چیز حائل نہ ہو تو وہ ایسا ہی کرے۔ (أحمد: ۳/۸۲، ورواہ ابوداود: ۶۹۹ مختصرا، صحیحۃ:۳۲۵۱)
اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شیطانی حملوں سے مکمل محفوظ تھے، لیکن ابلیس اپنے خبث ِ باطن کا اظہار کرتا رہتا تھا اور نتیجتاً ناکام و نامراد ہو کر واپس لوٹتاتھا۔
سلیمان علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی: {وَھَبْ لِیْ مُلْکًا لَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ بَعْدِیْ} (سورۂ ص: ۳۵) … اور (اے اللہ!) مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما، جو میرے بعد کسی کے لیے لائق نہ ہو۔
حافظ ابن حجرؒنےکہا: اسحدیث سے اشارہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلیمان علیہ السلام کی رعایت کرتے ہوئے ابلیس کو چھوڑ دیا تھا، لیکنیہ بھی احتمال ہے سلیمان علیہ السلام کی خصوصیتیہ ہو کہ وہ جو کام چاہتے جنوں سے کروا لیتے تھے۔ (فتح الباری)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10283
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو عبيدة لم يسمع من ابيه، أخرجه البيھقي: 2/ 219 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3926»