حدیث نمبر: 10279
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا لَيْلًا قَالَتْ فَغِرْتُ عَلَيْهِ قَالَتْ فَجَاءَ فَرَأَى مَا أَصْنَعُ فَقَالَ مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ أَغِرْتِ قَالَتْ وَمَا لِي أَنْ لَا يَغَارَ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَأَخَذَكِ شَيْطَانُكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَمَعِيَ شَيْطَانٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ وَمَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَلَكِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَعَانَنِي عَلَيْهِ حَتَّى أَسْلَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رات کو اس کے پاس سے نکل گئے، مجھے بڑی غیرت آئی (کہ باری میری ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں)، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس تشریف لے آئے اور اس کودیکھا، جو کچھ میں نے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!تجھے کیا ہو گیا ہے؟ کیا غیرت آ گئی ہے؟ میں نے کہا: بھلا مجھ جیسی خاتون آپ جیسی شخصیت پر غیرت کیوں نہ کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا شیطان تجھ پر مسلط ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے ساتھ بھی شیطان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: کیا ہر انسان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، لیکن اللہ تعالیٰ نے میری معاونت کی،یہاں تک کہ وہ مطیع ہو گیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10279
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2815 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25357»