حدیث نمبر: 10274
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِابْنِ صَائِدٍ مَا تَرَى قَالَ أَرَى عَرْشًا عَلَى الْبَحْرِ حَوْلَهُ الْحَيَّاتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن صائد سے فرمایا: تو کیا کچھ دیکھتا ہے؟اس نے کہا: میں سمندر پر ایک تخت دیکھتا ہوں، اس کے ارد گرد سانپ ہوتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو ابلیس کا تخت دیکھتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … اس موضوع کی درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَقِیَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ فِی بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِینَۃِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ؟)) فَقَالَ ہُوَ: أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللّٰہِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہٖ،مَاتَرَی؟)) قَالَ: أَرَی عَرْشًا عَلَی الْمَائِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((تَرٰی عَرْشَ إِبْلِیسَ عَلَی الْبَحْرِ، وَمَا تَرٰی؟)) قَالَ: أَرٰی صَادِقَیْنِ وَکَاذِبًا أَوْ کَاذِبَیْنِ وَصَادِقًا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((لُبِسَ عَلَیْہِ دَعُوہُ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما مدینہ منورہ کے کسی راستے میں ابن صیاد کو ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے آگے سے کہا: کیا آپ یہ شہادت دیتے ہیں کہ میں (ابن صیاد) اللہ کا رسول ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تو اللہ تعالی، اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوںپر ایمان لایا ہوں، اچھایہ بتلا کہ تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں پانی پر عرش دیکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو سمندر پر ابلیس کا عرش دیکھتا ہے، اچھا مزید کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے یا دو جھوٹے اور ایک سچا دیکھتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر معاملہ خلط ملط ہو گیا ہے، اس کو چھوڑ دو۔ (صحیح مسلم: ۲۹۲۵)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب خلق العالم / حدیث: 10274
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابويعلي: 1316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11948»