حدیث نمبر: 10195
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمَعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رَحْمَةٍ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت کی طمع نہیں رکھے گا اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پتہ چل جائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ نے کل سو رحمتیں پیدا کی ہیں، ان میں سے ایک رحمت اپنی مخلوق کے اندر نازل کی ہے، اسی کی وجہ سے یہ ایک دوسرے پر رحیم ہے اور ننانوے رحمتیں اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … مسلمان کو اپنی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی کرنی چاہیے، لیکن اس کے عذاب کا ڈر بھی ہونا چاہیے، اس کو خوف اور امید کی زندگی کہتے ہیں، پھر عملی انداز بھی ایسا ہونا چاہیے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید بھی نظر آئے اور اس کے عذاب سے ڈر ستاتا رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10195
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6469، وأخرج الشطر الثاني مسلم: 2752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10280 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10285»