حدیث نمبر: 10190
وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے ہاتھ سے اپنے نفس پر لکھا: بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی۔

وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے غضب کی بہ نسبت اس کی رحمت وسیع ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖمَنْاَشَآئُوَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْْئٍ فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَیَتَّقُوْنَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَایُؤْمِنُوْن۔} … میرا عذاب، میں اسے پہنچاتا ہوں جسے چاہتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے، سو میں اسے ان لوگوں کے لیے ضرور لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور (ان کے لیے) جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۱۵۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب التوبة / حدیث: 10190
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده جيّد، وقوله بيده زيادة شاذة، أخرجه ابن ماجه: 189، 4295، والترمذي: 3543 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9595»